نئی دہلی 11 اگست (ایس او نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد پر 8 اگست سے جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 2 گھنٹے تقریر کی لیکن اپنی تقریر میں منی پور معاملے کو لے کر مودی صرف چھ منٹ ہی بول پائے۔ جبکہ بیشتر اوقات وہ کانگریس اور اپوزیشن اتحاد ’اِنڈیا‘ کی طعن و تشنیع کرتے ہی نظر آئے۔
منی پور میں ہوئے حالیہ تشدد کے واقعات کو لے کر اپوزیشن مرکزی حکومت پر مسلسل حملہ آور تھی اور وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کو لے کر تحریک عدم اعتماد شروع کی گئی تھی۔ لیکن وزیراعظم نے تقریباً 6.40 بجے منی پور پر بولنا شروع کیا اور پھر 6.46 بجے کے بعد پھر وہ اپوزیشن اتحاد اور کانگریس کے خلاف تنقید شروع کردی۔ یعنی انھوں نے منی پور کے تعلق سے محض 6 منٹ ہی اپنی بات ایوان میں رکھی۔ جب پی ایم مودی کی تقریر ختم ہوئی تو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا اعلان کیا۔ بعد ازاں صوتی ووٹوں سے تحریک عدم اعتماد گر گیا، اور اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی کارروائی جمعہ یعنی 11 اگست تک 11 بجے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
وزیراعظم مودی نے جب لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد کی بحث کے دوران جواب دینا شروع کیا تو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک انھوں نے منی پور کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔ اس سے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران ناراض ہو گئے اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی منی پور پر نہیں بول رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈران کے واک آؤٹ کو دیکھ کر پی ایم مودی نے کہا کہ ’’جمہوریت میں جن کا بھروسہ نہیں ہوتا، وہ سنانے کو تیار ہوتے ہیں لیکن سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ وہ جھوٹ پھیلا کر بھاگ جاتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے منی پور کے تعلق سے کچھ باتیں ایوان میں رکھیں۔
منی پور پر بات کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن نے وزیر داخلہ کی بحث پر اتفاق ظاہر کیا ہوتا تو طویل گفتگو ہو سکتی تھی۔ اپوزیشن پارٹیاں تحریک عدم اعتماد پر سبھی موضوعات پر بولے، ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کے اعتماد کو ظاہر کریں اور سبھی چیزوں کے بارے میں بتائیں۔ پھر مودی نے کہا کہ ’’اگر صرف منی پور پر بحث کی بات تھی تو وزیر داخلہ نے خط لکھ کر کہا تھا، لیکن اپوزیشن کا ارادہ بحث کا نہیں تھا، ان کے پیٹ میں درد تھا لیکن سر پھوڑ رہے تھے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ منی پور میں ایک عدالت کا فیصلہ آیا۔ اس کے حلیف اور حریف میں کچھ ایسے حالات بنے کہ تشدد کا دور شروع ہو گیا۔ کئی لوگوں نے اپنوں کو کھو دیا، خواتین کے ساتھ جرم ہوا۔ اس کے قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومت کام کر رہی ہے۔ ملک کے عوام بھروسہ رکھے، منی پور میں امن کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔